ہندوستان میں ایک سلطان ایسا بھی تھا کہ تک وہ زندہ تھا انگریزوں کو لگا کہ وہ ہندوستان پر قابض نہیں ہو سکتے۔ لیکن ایک انگریز افسر نے اس کی لاش میسور کے قلعے کے باہر دیکھی تو کہا کہ اب ہندوستان ہمارا ہے۔ یہ برصغیر میں انگریزوں کے لیے آخری بڑی رکاوٹ تھی۔

Who was Tipu Sultan of Maysore? – میسور کا ٹیپو سلطان کون تھا؟

میں ہوں فیصل وڑائچ اور آج دیکھو سنو جانو کی سیریز وہ کون تھا میں اسی شیر میسور کی داستان دکھائیں گے- یہ سترہ سو ساٹھ کا ہندوستان ہے۔ دہلی سے کوئی بائیس سو کلومیٹر دور جنوبی ہندوستان کا ایک شہر ہے سرنگا پٹم۔ اس شہر کے ایک مینار پر بنے کمرے میں ایک عجیب سی سرگرمی جاری ہے۔ ایک دس سالہ لڑکا بڑی جانفشانی سے ایک ریتی کی مدد سے کھڑکی کی سلاخیں کاٹ رہا ہے۔ اور اس کے پاس بیٹھا اس کا پانچ سالہ بھائی آنکھوں میں خوف بھرے اسے دیکھ رہا ہے۔

بڑے لڑکے نے کھڑکی کی سلاخیں کاٹیں، پھر کھڑکی سے ایک رسی باندھ کر نیچے لٹکا دی۔ اس نے اپنے بھائی کو پیٹھ پر لادا اور رسی کے ذریعے نیچے اتر گیا۔ کچھ ہی دیر میں سارے سرنگا پٹم میں ہاہا کار مچ گئی کہ باغی جنرل حیدر علی کے دونوں قیدی بیٹے ٹیپو اور کریم فرار ہو چکے ہیں۔ جی ہاں یہ سلاخیں کاٹنے والا ننھا بہادر فتح علی ٹیپو تھا۔

اور اب یہی ننھا سلطان اپنے بھائی کے ساتھ دشمنوں سے چھپتا پھر رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ٹیپو کا والد حیدر علی جو میسور کے راجہ کا سپہ سالار تھا- اپنے مخالفین کی سازشوں کی وجہ سے باغی قرار پا چکا تھا۔ اب وہ شہر سے فرار تھا۔ اس کے بیٹوں کو قید کیا گیا تھا لیکن وہ بھی بھاگ نکلے تھے۔ اس دوران ہولی کا تہوار آیا۔ حیدر علی کے ہمدردوں نے ٹیپو اور اس بھائی کو ہولی کے رنگوں میں رنگ دیا۔ ٹیپو نے چہرے پر بھی شیر کا ماسک پہن لیا- پھر دونوں بھائی کسی کی نظروں میں آئے بغیر ہی شہر سے نکل گئے اور اپنے باپ سے جا ملے۔

اس انتہائی فلمی انداز کے فرار کے ایک سال کے اندر ٹیپو کا باپ حیدر علی میسور کا حکمران بن چکا تھا اور ٹیپو ولی عہد۔ لیکن حیدر علی کا اکیس سالہ دور حکومت دشمنوں سے جنگ و جدل میں ہی گزر گیا۔ اور جب سترہ سو بیاسی میں حیدر علی کی وفات کے بعد ٹیپو تخت نشین ہوا تو یہی مسائل اسے بھی منتقل ہو گئے۔ مسیور کی حکمرانی پھولوں کا بستر نہیں کانٹوں کی سیج تھی۔

یہ طے تھا کہ ٹیپو کتنا ہی قابل حکمران سہی لیکن وہ اپنی سلطنت کی تباہی کو ٹال تو سکتا تھا روک نہیں سکتا تھا۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس کی وجہ تھی ریاست میسور کا انتہائی مشکل جغرافیہ۔ وہ صوبے جو آج بھارتی سٹیٹس کرناٹکا، تامل ناڈو اور کیرالہ کہلاتے ہیں ان کے بہت سے حصے ریاست میسور میں شامل تھے۔ دیکھنے میں یہ ایک بڑی ریاست تھی- لیکن اس کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے تین انتہائی خطرناک دشمن اس کی سرحدوں پر ہی بیٹھے تھے۔

کچھ مشرقی علاقوں اور جنوب میں ایسٹ انڈیا کمپنی یعنی انگریزوں کی حکومت تھی، جن کا جنوبی ہندوستان میں فوجی مرکز مدراس تھا جو اب چنئی کہلاتا ہے۔ انگریز علاقے کے ساتھ مشرق ہی میں حیدر آباد دکن کی ریاست تھی جو اب آندھرا پردیش کا حصہ ہے۔ جبکہ شمال کی طرف مرہٹے تھے جن کی سلطنت میسور کی سرحدوں سے دہلی تک پھیلی ہوئی تھی اور مغرب میں تھا سمندر۔ یعنی کسی طرف سے ٹیپو کو کوئی مدد مل سکتی تھی نہ وہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔

اور اس خطرناک جغرافیے کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ بھی تھا۔ اور وہ یہ کہ میسور ہندوستان کی دولت مند ریاستوں میں سے ایک تھی۔ مصالحہ جات کی پیداوار اور کپڑے کی صنعت یہاں خوب پھل پھول رہی تھی۔ میسور کے شہریوں کی آمدنی باقی ہندوستان کے لوگوں سے پانچ گنا زیادہ تھی۔ تو ایسے میں میسور کے مخالفین کی رال کیوں نہ ٹپکتی۔ اس کے تینوں طرف پھیلے دشمنوں کا واحد مقصد میسور پر قبضہ کرنا تھا، اس لیے ان سے صلح یا معاہدے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یوں میسور کی ریاست خطرناک جغرافیے اور مشکل حالات میں کمزور دفاعی پوزیشن پر کھڑی تھی۔ لیکن ٹیپو ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ صلح اور جنگ دونوں کے لیے تیار رہتا تھا۔

اس نے پہلے اپنے دشمنوں سے صلح کے معاہدے بھی کئے۔ لیکن یہ تمام کے تمام معاہدے ناکام رہے اور ٹیپو سلطان کو آخر جنگ ہی کرنا پڑی۔ ان جنگوں میں کئی بار اس نے اپنے دشمنوں کے ایسے دانت کھٹے کئے کہ لوگ اسے شیرِ میسور کہنے لگے۔ اس سلسلے کی پہلی جنگ وہی تھی جو اسے اپنے باپ سے ورثے میں ملی تھی۔ یعنی انگریزوں سے جنگ جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے میسور پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ وہی جنگ تھی جس کے دوران ہی ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کی وفات بھی ہوئی تھی۔ ٹیپو کی جگہ کوئی اور ہوتا تو باپ کی موت اور دشمن سے جنگ اس کے اعصاب شل کر دیتی اور یہ ریاست اسی وقت ختم ہو جاتی۔

لیکن ٹیپو نے تخت نشین ہوتے ہی ایک کے بعد ایک انگریزی لشکر کو دھول چٹائی۔ پھر اس نے بنگلور کے قلعے میں محصور انگریزی فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ برصغیر کی تاریخ میں انگریزوں کو ایسی ذلت آمیز شکست نہ پہلے کبھی ہوئی تھی نہ اس کے بعد۔ ایسے میں زخموں سے چور انگلش فوج نے صلح کی درخواست کی۔ اگر ٹیپو یہ جنگ جاری رکھتا تو وہ جنوبی ہندوستان میں انگریزوں کے ہیڈ کواٹر مدراس پر بھی قابض ہو سکتا تھا۔ ایسی صورت میں کم از کم جنوبی ہندوستان سے انگریزی تسلط کا خاتمہ ہو جاتا۔ لیکن ٹیپو نے رحم دلی سے کام لیا اور صلح کر لی۔

سترہ سو چوراسی میں اس نے انگریزوں سے جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا۔ اس فتح سے ٹیپو تو ہندوستان کے لوگوں کا ہیرو تو بن گیا جبکہ برطانیہ میں صفِ ماتم بچھ گئی تھی۔ انگریزوں نے طے کر لیا کہ اگر ہندوستان پر قبضہ برقرار رکھنا ہے تو ٹیپو کو راستے سے ہٹانا ہو گا۔ اور اس کیلئے انہوں نے سازشوں کا جال بچھانا شروع کر دیا۔ ان سازشوں میں ٹیپو کی ایک کمزوری ان کے بہت کام آئی۔ وہ کمزوری یہ تھی کہ ٹیپو درباریوں کو خوش رکھنے کا ہنر نہیں جانتا تھا۔ اس نے حکمران بننے کے بعد کئی نئے لوگوں کو اپنے دربار میں جگہ دی جس سے پرانے درباری ناراض ہو گئے-

جن میں وزیرخزانہ میر صادق اور وزیرِ اول پورنیا پیش پیش تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ٹیپو کو تخت سنبھالنے میں مدد دی تھی۔ لیکن اب انہیں لگنے لگا تھا کہ ٹیپو سلطان انہیں نظرانداز کر رہا ہے۔ ٹیپو اپنی اصول پرستی کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کو سزائیں بھی دیتا تھا۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب ٹیپو کے انتہائی ماہر اور وفادار جرنیل محمد علی کمیدان نے ٹیپو کے ایک مخالف کو پناہ دے دی- تو ٹیپو نے مصلحت سے کام نہیں لیا۔ اس نے کمیدان کو گرفتار کر لیا۔ کمیدان نے قید میں ہی خودکشی کر لی۔ اس واقعے سے سلطان کے بہت سے وفادار بددل ہوئے۔ چنانچہ درباری سازشوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس میں انگریزوں کی دال گلنے کا امکان پیدا ہو گیا۔

اب انھیں ٹیپو کے دربار سے غدار ملنے لگے تھے۔ اور اس غدار فیکٹری کا خریدار تھا ایسٹ انڈیا سے آیا نیا گورنر جنرل۔ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نئے گورنر جنرل کا نام تھا لارڈ کارنوالس۔ یہ شخص بہت مکار تھا اور دشمن کو میدان جنگ میں ہرانے سے زیادہ اسے اپنے گھر میں کمزور کرنے کا ہنر جانتا تھا۔ اس نے ٹیپو کی ریاست میں کئی جاسوس بھیجے جن میں ایک کا نام تھا سید امام۔ إیہ شخص ٹیپو کے دارالحکومت سرنگا پٹم پہنچا جہاں اس نے ناراض اور لالچی درباریوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت پر تیار کر لیا۔ لیکن یہ سازش بروقت پکڑی گئی۔

ٹیپو سلطان نے اس کا سخت نوٹس لیا۔ غداروں اور سید امام کو سزائے موت دی گئی۔ لیکن اس سے غدار فیکٹری سے غداروں کی پروڈکشن رکی نہیں۔ بلکہ ان کی تعداد بڑھنے لگی۔ ٹیپو کے درباریوں کو خریدنے کے باوجود لارڈ کارنوالس تنہا ٹیپو کے مقابلے پر آنے سے ڈرتا تھا۔ اس نے نظام حیدر آباد اور مرہٹوں کو بھی ساتھ ملا لیا۔ جنگ شروع کرنے کیلئے اس نے یہ بہانہ کیا کہ ٹیپو نے انگریزوں کے ایک اتحادی راجہ ٹرانکوور کے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔ حالانکہ یہ جنگ ٹیپو نے نہیں راجہ نے خود چھیڑی تھی اور ٹیپو کی جوابی کارروائی کے بعد یہ معاملہ ختم ہو چکا تھا۔

لیکن کارنوالس نے اس جنگ کو جواز بنا کر سابقہ شکست کے وقت کیا جانے والا صلح کا معاہدہ توڑ دیا اور میسور پر چڑھائی کردی۔ پہلے اس نے میسور کے اہم شہر بنگلور پر قبضہ کر لیا۔ ٹیپو سلطان نے جوابی حملہ کرتے ہوئے اسے بنگلور میں اسے گھیر لیا۔ لیکن جب وہ فیصلہ کن حملہ کرنے والا تھا تو ٹیپو کی فوج میں موجود غداروں نے حملے کی تفصیلات لارڈ کارنوالس تک پہنچا دیں۔ جس کی بدولت وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ نہ صرف ٹیپو کے حملے سے بچ نکلابلکہ اس نے ایک لمبا چکر کاٹتے ہوئے ٹیپو سلطان کے مرکز سرنگاپٹم پر چڑھائی کر دی۔

لیکن سرنگا پٹم سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی فوج تھک چکی تھی۔ ٹیپو کے چھاپہ مار دستوں نے انگریزوں کی سپلائی لائن بھی کاٹ دی تھی۔ کارنوالس کے دونوں اتحادی یعنی مرہٹے اور نظام جنہوں نے اس جنگ میں انگریزوں کی مدد کیلئے فوج بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ دونوں بھی مدد کو نہیں پہنچ تھے۔ یوں کارنوالس سرنگاپٹم کے محاصرے میں ناکام رہا۔ اس کے فوجی بھوک اور بیماری سے مرنے لگے تھے۔ لارڈ کارنوالس کو احساس ہو گیا تھا کہ ان حالات میں اس نے ٹیپو کی فوج پر حملہ کیا تو اسے ذلت آمیز ہار کا مزہ چکھنا ہو گا۔ چنانچہ اس نے مزید لڑائی کا خیال چھوڑا اور اپنی فوج کے ساتھ بنگلور کی طرف بھاگ نکلا۔ یہ وہ موقع تھا جہاں ٹیپو سلطان نے اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی۔

غلطی یہ کہ اس نے ایک بھاگتی ہوئی اور شکست خوردہ انگریز فوج کا پیچھا کر کے اسے تباہ کرنے کے بجائے اسے نکل جانے کا موقع دیا۔ اس غلطی کا خمیازہ پہلے میسور اور پھر سارے برصغیر کو غلامی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ کارنوالس بچ کر نکل گیا اور جلد ہی مرہٹوں اور نظام سے جا ملا۔ پھر یہ تینوں اتحادی یعنی انگریز، مرہٹے اور نظام خوب تیاری کے ساتھ دوبارہ سرنگا پٹم پر ٹوٹ پڑے۔ انھوں نے سرنگا پٹم کا محاصر کر لیا۔ اب ٹیپو کو احساس ہوا کہ وہ کارنوالس کو بھاگنے کا موقع دے کر ایک ناقابل تلافی غلطی کر چکا ہے۔

لیکن اب پچھتانے سے کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کیونکہ محاصرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت ہو رہا تھا۔ ایسے میں ٹیپو نے ہار مان لی اور صلح کی درخواست کی۔ لارڈ کارنوالس نے صلح کے بدلے میں ٹیپو سے میسور کی آدھی سلطنت اور آٹھ کروڑ روپے تاوان جنگ وصول کیا۔ یوں اپنوں کی غداری اور جنگی غلطیوں کی بدولت ٹیپو سلطان کی طاقت پر ایسی کاری ضرب لگی کہ اس کے بعد وہ کبھی نہ سنبھل سکا۔ لارڈ کارنوالس کے ہاتھوں شکست کے ٹیپو اور اس کی سلطنت پر دو فوری اثرات مرتب ہوئے۔ ایک تو یہ کہ ٹیپو سلطان پر انگریزوں سے بدلہ لینے کا ایک جنون سوار ہو گیا۔

ٹیپو نے طے کر لیا کہ جب تک وہ انگریزوں کو شکست نہیں دے گا وہ پلنگ پر نہیں فرش پر سویا کرے گا اور اس نے ایسا کیا بھی۔ اس نے ایک کھلونا گھڑی بھی تیار کرائی جس میں ایک شیر ایک برطانوی فوجی کا گلا دبوچ رہا تھا۔ اور یہ گھڑی آج بھی لندن کے میوزیم میں محفوظ ہے۔ ٹیپو اس گھڑی کو دیکھ کر دشمن سے بدلے کی ترکیبیں سوچتا رہتا۔ جنگ کا دوسرا اثر ہوا ٹیپو کے وفاداروں پر، جنہوں نے بھانپ لیا کہ اب ٹیپو اور اس کی سلطنت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اس لیے وہ سلطان سے دور ہونے لگے۔ شاید یہ بات بہت سے لوگوں کیلئے حیرانی کا باعث ہو- لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں ہندوستان میں آزاد ریاستوں کا قائم ہونا اور ٹوٹنا ایک عام سی بات تھی۔

چنانچہ کسی ریاست سے وفاداری کیلئے ایک ہی شرط تھی کہ وہ طاقتور ہو اور وہاں لوگوں کو اپنا مستقبل محفوظ نظر آئے۔ لیکن جب ریاست کمزور پڑ جاتی تھی تو اس کے وفادار پارٹی بدل کر کسی طاقتور گروہ یا ریاست سے مل جاتے تھے۔ یہ اس دور کے ہندوستان کی انتہائی تلخ سچائی تھی جس نے آخرکار سارے خطے کو انگریزوں کا غلام بنا دیا۔ یہاں یہ بات بتانا بھی اہم ہے کہ ٹیپو کے بارہ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔

لیکن اس کے ایک بیٹے میں بھی یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ ان خراب حالات میں ٹیپو کا بہترین جانشین ثابت ہو۔ چنانچہ جس ریاست کا حکمران بڑھاپے کی طرف بڑھ رہا ہو، وہ آدھا علاقہ کھو چکی ہو، طاقتور دشمنوں سے گھری ہو اور اسے ایک مضبوط جانشین کی امید بھی نہ ہواس کا زیادہ دیر برقرار رہنا صرف ایک معجزہ ہی ہو سکتا تھا۔ لیکن ٹیپو معجزے کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ اور اسے یہ امید تھی برطانیہ کے بدترین دشمن فرانس سے جو ماضی میں ٹیپو کا اتحادی رہ چکا تھا۔ ٹیپو نے فرانسیسی جرنیل نپولین بونا پارٹ کے پاس اپنا سفیر بھی بھیجا اور مدد کی درخواست کی تھی۔ نپولین نے ٹیپو کو ایک جوابی خط بھی لکھا لیکن یہ خط راستے میں انگریز جاسوسوں نے پکڑ لیا۔

برطانیہ اور ہندوستان میں کہرام مچ گیا کہ نپولین، ٹیپو کی مدد کیلئے ہندوستان کا رخ کرنے والا ہے۔ جب نپولین 1798 میں فوج لے کر مصر پر حملہ کرنے نکلا تو برطانیہ یہی سمجھا کہ نپولین ہندوستان جانے والا ہے۔ پھر نپولین نے مصر پر قبضہ کر لیا تو بھی انگریزوں کا یہی خیال تھا- کہ شاید وہ زمینی راستے سے ہندوستان پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن جب برطانوی بحریہ نے فرانس کو شکست دے دی تب کہیں جا کر ہندوستان میں کمپنی سرکار نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن چونکہ اس زمانے میں ایک خبر سمندر پار پہنچنے میں مہینوں لگا دیتی تھی، اس لیے برطانیہ اور ہندوستان میں یہ افواہیں بہت عرصے تک گردش کرتی رہیں کہ نپولین، ٹیپو کی مدد کیلئے اب آیا کہ تب آیا۔

ٹیپو اب چاروں طرف سے دشمنو ں میں گھر چکا تھا اور فرانس سے مدد آنے کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ یہ ایسا وقت تھا جب اس کے دشمنوں نے طے کرنا تھا کہ وہ شیرِ میسور کا شکار کب، کہاں اور کیسے کریں گے۔ اس دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے لارڈ کارنوالس کو واپس بلا کر لارڈ ویلزلے کو گورنر جنرل بنا دیا۔ یہ شخص اس وقت کے برطانوی وزیراعظم کا دوست تھا۔ دونوں دوست چاہتے تھے کہ ہندوستان پر مکمل قبضہ کیا جائے اور ان کی نظر میں ٹیپو سلطان ہی سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ انگریزوں کے ذہن پر مسلسل یہ خوف سوار تھا کہ اگر کہیں فرانس ٹیپو کی مدد کو پہنچ گیا- تو ہندوستان ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اور یہ خوف بے جا بھی نہیں تھا۔ کیونکہ ٹیپو کے خلاف آخری جنگ سے صرف 18سال پہلے، فرانس نے برطانیہ کی ایک اور کالونی امریکہ میں ایسی ہی مداخلت کی تھی۔

اس نے امریکی جنگ آزادی کے ہیرو جارج واشنگٹن کی مدد کی تھی- جس کی وجہ سے برطانیہ کو شکست ہوئی اور امریکہ آزاد ہو گیا تھا۔ برطانیہ اب فرانس کو پھر مداخلت کی اجازت دے کر ہندوستان میں ٹیپو کی شکل میں ایک نیا جارج واشنگٹن افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ لارڈ ویلزلے ٹیپو کے خلاف جنگ کا ذہن بنا کر ہی ہندوستان پہنچا- اور آتے ہی اس نے جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ برطانیہ سے تازہ دم فوجی دستے بھی اس کی مدد کیلئے پہنچنے لگے۔ لیکن لارڈ ویلزلے کو ٹیپو کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں تھی۔

لارڈ کارنوالس جن غداروں کو تیار کر کے گیا تھا وہ اب ویلزلے کے ساتھ تھے۔ ویلزلے نے ٹیپو کے غداروں سے یہ طے کر لیا تھا کہ وہ کہیں بھی میسور کی فوج کو انگریزوں کا مقابلہ نہیں کرنے دیں گے۔ میسور کے زیادہ تر قلعوں کے کمانڈروں نے بھی یقین دلا دیا کہ جیسے ہی حملہ شروع ہو گا وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ یعنی اس جنگ کا نتیجہ پہلے سے فِکس تھا۔ چنانچہ فتح کا پورا یقین کر کے ویلزلے اپنے اتحادیوں کے ساتھ میدان جنگ میں کود گیا۔ صلح کا معاہدہ توڑنے کیلئے اس نے یہ اعلان کیا کہ ٹیپو فرانسیسیوں کے ساتھ مل کر کمپنی سرکار کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس لئے جنگ ضروری ہے۔ فروری سترہ سو ننانوے میں انگریزی فوج اور اس کے اتحادی چار اطراف سے میسور پر حملہ آور ہو گئے۔

ٹیپو نے حملہ آور انگریزوں کے مقابلے کیلئے لشکر روانہ کیے، لیکن کمانڈروں نے دشمن پر حملے کا ہر موقع ضائع کر دیا۔ اپنے کمانڈروں کا یہ انداز دیکھ کر میسور کے سپاہی سوال کرتے تھے کہ جب دشمن زد میں ہے تو حملہ کیوں نہیں کیا جا رہا لیکن انہیں یہ جواب دے کر چپ کرا دیا جاتا تھا کہ یہ سلطان کی حکمت عملی ہے۔ لیکن حقیقت میں غداروں نے شیرِ میسور کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے دشمنوں کے سامنے پھینکنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ مگر شیرِ میسور اب بھی ہار ماننے والا نہیں تھا۔ ایک موقع پر وہ خود فوج لے کر نکلا اور اس نے انگریز جنرل ہیرس کے چھکے چھڑا دیئے۔

لارڈ ویلزلے نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں ٹیپو کے ماہر جرنیل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن ٹیپو کے غدار افسر یہاں بھی انگریزوں کی مدد کر رہے تھے۔ وہ جان بوجھ کر ٹیپو کے فوجی دستوں کو دشمن کی توپوں کی زد میں لے آتے تھے۔ اس طرح ٹیپو کو بہت نقصان اٹھانا پڑا اور اس نے پیچھے ہٹ کر سرنگا پٹم میں دفاعی پوزیشن لے لی۔ اپریل سترہ سو ننانوے میں یعنی حملہ شروع ہونے کے صرف دو ماہ بعد ہی انگریزوں نے سرنگاپٹم کا محاصرہ کر لیا تھا۔ ایسے میں غداروں نے دشمن کو بتا دیا کہ شہر کی حفاظتی دیوار کا کون سا حصہ کمزور ہے۔

انگریزوں نے اسی دیوار کو نشانہ بنایا اور وہاں ایک بڑا شگاف بن گیا۔ تین مئی سترہ سو ننانوے کی رات سلطان کے وزیر میر صادق نے فصیل سے باہر آ کر انگریزوں سے خفیہ میٹنگ کی۔ طے یہ پایا کہ اگلے روز دوپہر تک انگریز اس شگاف پر دھاوا بول دیں گے۔ جبکہ میر صادق وہاں موجود فوج کو پہلے ہی ہٹا چکا ہو گا۔ میر صادق واپس چلا گیا پھر چار مئی کا سورج طلوع ہوا۔ نجومیوں نے سلطان ٹیپو سے کہا آج کا دن آپ کیلئے انتہائی منحوس اور بدشگون ہے۔

آپ فوج کے ساتھ رہیں اور خیرات کریں۔ لیکن جب دوپہر کو سلطان کھانا کھانے بیٹھا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے توپخانے کا کمانڈر سید غفار شہید ہو گیا ہے۔ یہ سنتے ہی ٹیپو فوج کی پوزیشن کا جائزہ لینے کیلئے قلعے سے باہر نکل آیا۔ سلطان قلعے سے باہر نکلا تو غداروں نے قلعے کے دروازے اندر سے بند کر دیئے تاکہ ٹیپو پھر واپس قلعے میں نہ آ سکے۔ کہا جاتا ہے کہ سید غفار کی شہادت بھی ایک سازش کے تحت ہوئی تھی۔ تاکہ یہ خبر سن کر سلطان جوش میں قلعے سے باہر نکلے۔ یوں یہ ساری کارروائی بھی ایک بہت بڑا ڈرامہ تھی۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو سلطان اب قلعے سے باہر آ چکا تھا۔ دوسری طرف میر صادق اور پورنیا نے فوج کو تنخواہ دینے کے بہانے دیوار کے شگاف سے ہٹا لیا تھا۔

اب میدان خالی تھا۔ انگریزی فوج اس شگاف سے اندر داخل ہونے لگی۔ سلطان نے قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاکہ اپنی فوج کو واپس جمع سکے۔ لیکن افسوس، قلعے کے محافظوں نے مالک کو ہی اندر آنے سے روک دیا۔ اس موقع پر سلطان نے انگریزوں سے آخری بار دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کر لیا- سلطان کے ساتھ مٹھی بھر سپاہی تھے۔ اس نے ایک خدمتگار سے بندوق لے کر انگریزوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے مٹھی بھر ساتھی بھی جان توڑ کر لڑے۔ لیکن جلد ہی یہ آخری وفادار ایک ایک کر کے گرنے لگے۔ خود سلطان کو گولیاں لگیں اور وہ زخمی ہو گیا۔

ایک ملازم نے کہا حضور انگریزوں کو بتا دیں آپ کون ہیں وہ آپ کا احترام کریں گے۔ لیکن تب ٹیپو نے وہ الفاظ کہے جو تاریخ میں امر ہو گئے۔ اس نے کہا شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔ شیرِ میسور تب تک لڑتا رہا جب تک وہ بے بس ہو کر گر نہیں گیا۔ انگریز اس وقت نہیں جانتے تھے کہ قلعے کے باہر لڑنے والا یہ شعص ٹیپو سلطان ہے- سلطان جب گرا تو ایک لالچی انگریز سلطان کی کمر سے بندھی ہیروں کی پیٹی اتارنے کے لیے آگے بڑھا، لیکن سلطان ابھی زندہ تھا۔ اس نے تلوار کے وار سے انگریز سپاہی کی ٹانگ اڑا دی۔ انگریز نے پلٹ کر گولی چلائی جو سلطان ٹیپو کے سر میں لگی۔ یوں سلطان ٹیپو شہید ہو گیا۔ لیکن تب تک قلعے میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ میر صادق اور پورنیا نے فوج کو دھوکے سے شگاف سے ہٹایا تھا۔

اس خبر کے پھیلنے پر سپاہی مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے گولی مار کر میر صادق کو ہلاک کر دیا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ انگریزی فوج شہر پر قابض ہو چکی تھی اور میسور کے سلطان کی لاش قلعے کے دروازے پر پڑی تھی۔ ٹیپو شہید کو انگریزوں نے پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سرنگاپٹم میں ہی دفن کیا۔ شہادت کے وقت ٹیپو کی عمر انچاس برس تھی اس لئے اسے انچاس توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ ٹیپو کی شہادت کے انسٹھ برس بعد سارے ہندوستان پر برطانوی پرچم لہرا رہا تھا۔ یوں اس انگریز افسر کی بات سچ ہو گئی جس نے ٹیپو سلطان کی لاش دیکھ کر کہا تھا کہ اب ہندوستان ہمارا ہے۔ انگریزوں نے ٹیپو کے خاندان کو کلکتہ بھیج دیا تھا۔

ٹیپو کی اولادیں اس شہر میں دو سو برس تک محنت مزدوری کرتی رہیں۔ دوہزار نو میں بھارتی حکومت کو آخر یہ خیال آ ہی گیا کہ ان کا شاہی سٹیٹس بحال کر کے انہیں ٹیپو کی جائیداد لوٹائی جائے۔ آج ٹیپو سلطان کے مزار پر ہندو اور مسلمان سبھی حاضری دیتے ہیں۔ سرنگا پٹم بھارتی ریاست کرناٹکا میں شامل ہے۔ اور ریاست میں ٹیپو سلطان کا یومِ پیدائش سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے۔ اگرچہ بی جے پی اور سخت گیر ہندو تنظیمیں اس کی مخالفت کرتی ہیں۔

ٹیپو کی سالگرہ منانے کے خلاف تو مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ٹیپو سلطان آج بھی برصغیر کا عظیم ہیرو مانا جاتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *