وہ کسی بھی قیمت پر طاقت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ایک وقت میں وہ یورپ کا سب سے طاقتور لیڈر تھا۔ وہ روم کا ماڈرن جولیس سیزر بننا چاہتا تھا اور اسی کے انداز میں ہاتھ ہلاتا تھا۔ ہٹلر چرچل، روزویلٹ، علامہ اقبال غرض کون تھا جو اس کا دیوانہ نہیں تھا۔ اس کے چاہنے والے اس کے ایک اشارے پر مخالفین کی جان لے لیتے اور پھر چوک میں اسے الٹا لٹکا دیتے تھے۔

Who was Mussolini? – مسولینی کون تھا

پھر وقت نے کروٹ بدلی اور اسی چوک میں اسے بھی الٹا لٹکایا گیا۔ میں ہوں فیصل وڑائچ اور دیکھو سنو جانو کی سیریز وہ کون تھا میں ہم آپ کو ایک فاشسٹ کی کہانی دکھائیں گے۔ مسولینی سکول میں تھا تو بچوں کو چاقو مار دیا کرتا تھا۔ وہ سکول کا بدمعاش بچہ تھا اسی وجہ سے اسے ہر دوسرے اسکول سے نکال دیا جاتا تھا۔ جب جوان ہوا تو وہی ضدی لڑکا جو سب کو ناپسند تھا اس کی شخصیت میں ایک جاذبیت پیدا ہو گئی۔

وجہ تھی اس کی وجیح شخصیت اور پراعتماد گفتگو۔ لمبے قد اور مضبوط جسم والے اس نوجوان کی باتوں میں ایک نشہ سا تھا۔ یہ جہاں موجود ہوتا جان محفل بن جاتا۔ لیکن وہ خود کارل مارکس کی شخصیت کا اسیر ہو چکا تھا۔ کارل مارکس سے وہ کتنا متاثر تھا، اس کا اندازہ یوں کیجئے کہ جب وہ کام کاج کی تلاش میں اٹلی سے سوئٹزرلینڈ گیا تو اس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی۔ لیکن کارل مارکس کی تصویر ضرور تھی۔ سوئٹزرلینڈ میں پہلے چند ماہ تو وہ چھوٹے موٹے کام کرتا رہا۔ پھر اسے ایک ٹریڈ یونین میں جاب مل گئی۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ ٹریڈ یونین کے حق میں پراپیگنڈہ کرے۔ مسولینی مطالعے کا رسیا تھا اور اسے چکنی چپڑی باتیں کرنا بھی خوب آتا تھا۔ سو اس کا پراپیگنڈہ مقبول ہونے لگا۔ لیکن یہ پروپیگنڈا سوئس حکومت کو پسند نہیں آیا۔ جب سوئٹزر لینڈ نے سوشلسٹوں کے خلاف کارروائی شروع کی تو مسولینی بھی گرفتار ہوا۔ اور پھر جیسا کہ ہوتا آیا ہے وہی ہوا۔ وہ گرفتاری کے بعد زیادہ مشہور ہو گیا۔

اس کے آبائی وطن اٹلی میں بھی اس کی خبریں دھڑا دھڑ چھپنے لگیں۔ جیل سے رہا ہو کرمسولینی اپنے آبائی وطن اٹلی لوٹ آیا اور سکول ماسٹر بن گیا۔ لیکن جیسے وہ اچھا طالبعلم نہیں بن سکا تھا ویسے ہی اچھا استاد بھی نہ بن سکا اور سکول کی ملازمت چھوڑ کر پھرٹریڈ یونینز کیلئے کام کرنے لگا۔ لیکن تب تک اٹلی میں بھی سوئٹزرلینڈ والا مسئلہ کھڑا ہو چکا تھا۔ حکومت ٹریڈ یونینز سے خوش نہیں تھی، چنانچہ وہ اپنے ملک میں بھی ایک دفعہ سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔ انیس سو نو میں جب اسے کچھ عرصے کیلئے آزادی ملی تو وہ اپنے باپ کی سابق محبوبہ کی سولہ سالہ بیٹی کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ مسولینی کا عشق کامیاب رہا اور دونوں جیون ساتھی بن گئے۔ مسولینی کمیونسٹ اخباروں کا جانا پہچانا لکھاری تھا۔ لیکن انیس سو بارہ میں اس نے اپنا اخبار۔۔۔ لا لوٹا ڈی کلاسی۔۔۔ نکال لیا۔

اس کا مطلب بنتا ہے ’’طبقاتی کشمکش‘‘۔ یہ اخبار اس قدر مقبول ہوا کہ سوشلسٹوں نے اسے ایک اوراخبار کا ایڈیٹر بنا دیا جس کا نام تھا اوانتی۔ یعنی فارورڈ یا ترقی پسند۔ مسولینی اتنا زبردست ایڈیٹر تھا کہ اس نے اوانتی کی اشاعت کچھ ہی عرصے میں دوگنی کر دی۔ اب وہ صرف ایڈیٹر ہی نہیں بلکہ سوشلسٹ پارٹی کا سرگرم رکن بھی بن چکا تھا۔ مسولینی ایک بڑا انقلابی بننے کی راہ پر گامزن تھا۔ لیکن اس دوران پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی اور مسولینی کو اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے ایک نئی راہ نظر آ گئی۔ سوشلسٹ جنگ کے خلاف تھے، چنانچہ شروع میں مسولینی نے جنگ کی زبردست مخالفت کی۔ لیکن پھر جب اس نے دیکھا کہ ملک کے امیر طبقے جنگ پر سرمایہ کاری کررہے ہیں تو اس نے پھر یو ٹرن لیا اور جنگ کی حمایت شروع کردی۔

اس کے سوشلسٹ ساتھیوں نے اعتراض کیا کہ جناب ہم تو جنگ کے خلاف ہیں۔ ایسے میں مسولینی نے انھیں کارل مارکس ہی کا ایک جملہ سنایا کہ ’’جنگ کے بعد ہی انقلاب آتا ہے۔‘‘ لیکن سوشلسٹ طبقے نے مسولینی کا جواب قبول نہیں کیا۔ مسولینی سے اخبارات کی ایڈیٹرشپ واپس لے لی گئی اور اسے پارٹی سے بھی نکال باہر کیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسولینی کو سوشلسٹوں سے شدید نفرت ہو گئی۔ لیکن شاید اب اسے ان کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ اسے جنگ کی حمایت کرنے والے سرمایہ دار اتحادی مل گئے تھے۔ یہ وہ سرمایہ دار تھے جو اسلحہ اور دیگر اشیا بیچ کر جنگ کے دنوں میں مال بنا رہے تھے۔ اب مسولینی نے دو کام کیے۔

ایک تو اپنی تقریر کی صلاحیت سے لوگوں میں جنگی جنون پیدا کیا اور دوسرا کام یہ کیا کہ ہتھیار بند ہو کر میدان جنگ میں پہنچ گیا۔ جنگ ختم ہوئی تو اٹلی اور اتحادی جیت چکے تھے۔ مسولینی میدان جنگ سے لوٹا تو اس کا استقبال ایک فاتح کی طرح کیا گیا۔ اس کا قد اب کچھ اور بڑھ چکا تھا۔ لیکن جنگ عظیم کے بعد اٹلی کو اپنے اتحادیوں فرانس اور برطانیہ سے شکایت پیدا ہو گئی۔ وہ یوں کہ فاتح علاقوں میں سے اٹلی کو بہت کم حصہ ملا تھا۔ یعنی آسٹریا اور اردن کا مختصر سا حصہ اٹلی کے حصے میں آیا۔ جبکہ سلطنت عثمانیہ سے چھینے گئے زیادہ ترعلاقے جیسا کہ شام، عراق اور فرانس برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اٹلی کیلئے جنگ کے دوران پیدا ہونے والا بڑا مالی بحران ایک آفت بن چکا تھا۔ مسولینی نے جنگ سے پیدا ہونے والے مالی بحران کو دیکھا تو اس سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اس نے بجائے لوگوں کو یہ بتانے کہ کہ ملک جنگ اور لڑائیوں کی وجہ سے بحران کا شکار ہوتے ہیں، معیشت پر سیاست شروع کر دی۔

اس نے خطرناک کھیل کھیلا اور ذاتی شہرت کیلئے لوگوں کو نظام سے بغاوت پر اکسانا شروع کر دیا۔ اس نے کہا کہ اب اٹلی کو ایک ڈکٹیٹر کی ضرورت ہے جو دنیا میں اٹلی کا وقار بلند کرے۔ کیونکہ موجودہ سسٹم نے اٹلی کو اقوام عالم میں رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ جس جنگ کے باعث اٹلی اس حال کو پہنچا تھا، اس میں مسولینی کا پورا پورا حصہ تھا۔ لیکن اب یہ اس کی سحر بیانی تھی یا کرشماتی شخصیت، کہ عوام کی ایک معقول اور جذباتی تعداد اس کی پرجوش حامی بن چکی تھی۔

وہ اطالوی قوم پرستی کی برتری کی باتیں کرتا تھا اور اس کے چاہنے والوں کے دلوں پر یہ باتیں اثر کرتی تھیں۔ جنگ کے ایک سال بعد انیس سو انیس میں دو سو سے زائد ایسے ہی سابق فوجی اور سیاسی کارکن اٹلی کے شہر میلان میں جمع ہوئے۔ انہوں نے مسولینی کے فلسفے پر ایک سیاسی جماعت بنائی اور مسولینی کو اس کا لیڈر بنا ڈالا۔ اس جماعت کا نام مسولینی نے فاشسٹ پارٹی رکھا۔ جس کا مطلب ہے سلاخوں کا گٹھا یا ایک بنڈل۔ پارٹی کو فاشسٹ کا نام دینے کی ایک وجہ یہ تھی کہ مسولینی اسے جنگجوؤں کا گروہ ہی سمجھتا تھا جو انقلاب لے کر آئیں گے۔ جو پارٹی کا نام تھا وہی اس کا نشان تھا یعنی سلاخوں کا ایک بنڈل اور اس کے ساتھ میں ایک کلہاڑا۔

فاشسٹ پارٹی کے دو حصے تھے ایک سیاسی فاشسٹ اور دوسرے عسکری فاشسٹ۔ عسکری فاشسٹ سیاہ شرٹس پہنتے تھے اس لئے وہ یورپ میں بلیک شرٹس کے نام سے مشہور ہوئے۔ مسولینی نے اپنی پارٹی تو بنا لی تھی، لیکن ابھی اس میں ایک کمی تھی۔ وہ یہ کہ کسی قوم پرست جماعت کو اپنی طاقت بڑھانے کیلئے ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ اپنی قوم کے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف نفرت کا لاوہ تیار کر سکے اور پھر بوقت ضرورت اسے استعمال کرے۔ مسولینی خوش قسمت تھا، اسے دشمن کی تلاش کیلئے زیادہ غور نہیں کرنا پڑا۔ کیونکہ اس کا پرانا عشق کارل مارکس اور نظریہ سوشلزم، اس کے دشمن کے طور پر سامنے ہی موجود تھا۔ ان دنوں اٹلی میں سوشلسٹ اپنے حقوق کیلئے آئے دن مظاہرے اور ہڑتالیں کرتے تھے، جس سے فیکٹریوں میں کام ٹھپ ہو کر رہ جاتا۔ مسولینی نے اعلان کیا کہ یہی سوشلسٹ عناصر اٹلی کے مسائل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان کے مظاہروں اور ہڑتالوں کی وجہ سے ترقی کا پہیہ رک چکا ہے۔ فاشسٹوں نے جلد ہی سوشلسٹ گروپس کے خلاف کھلی جنگ چھیڑ دی۔ ٹریڈ یونینز کے دفاتر جلا دیئے گئے اور سینکڑوں سوشلسٹوں کو مار دیا گیا۔

اس سارے فتنے میں حکومت خاموش تماشائی تھی۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت خود بھی مزدور طبقے کی ہڑتالوں سے تنگ تھی۔ اور شاید دل ہی دل میں خوش بھی ہو کہ حکومت کا کام ایک تنظیم رضاکارانہ کر رہی ہے تو ہمیں ہاتھ ہلانے کی ضرورت کیا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ سوشلزم کے خلاف لڑائی تو صرف ایک ٹریلر ہے اور اصل فلم ابھی باقی ہے۔ کیونکہ درحقیقت مسولینی پورے اٹلی پر قبضے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس کی تقریریں گواہ ہیں کہ وہ جولیس سیزر بننا چاہتا تھا، وہی جولیس سیزر جو قبل از مسیح میں سلطنت روم کا عظیم شہنشاہ تھا۔ یوں سادگی یا نادانی میں حکومت نے مسولینی کو موقع دے کراپنی ہی موت کا سامان کر لیا تھا۔

مسولینی کی مسلح تنظیم بلیک شرٹس نے شہروں پر قبضے شروع کر دئیے۔ انیس سو بیس تک اٹلی کے زیادہ تر علاقے عملی طور پر فاشسٹوں کے کنٹرول میں جا چکے تھے اور حکومت کی رٹ کہیں بھی نہیں تھی۔ دو سال بعد مسولینی نے حکومت کو الٹی میٹم دے دیا کہ اگر اس نے استعفیٰ دے کر حکومت ان کے حوالے نہ کی۔۔۔ تو اس کے حامی روم کی طرف مارچ کر دیں گے اور زبردستی اقتدار چھین لیں گے۔ مسولینی کا یہ اعلان دراصل اٹلی کے مرکزی شہر پر چڑھائی اور قبضے کا اعلان تھا۔ اٹھائیس اکتوبر 1922 کو فاشسٹ پارٹی کے ہزاروں مسلح کارکن یعنی بلیک شرٹس روم کے باہر جمع ہو گئے۔ انھیں اپنے لیڈر کی طرف سے کال کا انتظار تھا لیکن ان کا لیڈر اپنے ہیڈکوارٹر میلان میں کسی اور کا انتظار کر رہا تھا۔ اور پھر وہ ٹیلیگرام آ گیا، جس کا اسے انتظار تھا۔ ٹیلیگرام پڑھ کر مسولینی کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ اب اسے روم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

اٹلی کی فوج وزیراعظم کے نہیں بادشاہ کے ماتحت ہوتی تھی، اور بادشاہ عمانویل سوئم نے لکھا تھا اگر مسولینی روم کی طرف مارچ کا ارادہ ترک کر دے تو اسے وزیراعظم بنا دیا جائے گا۔ مسولینی بن ٹھن کرروم پہنچا، بادشاہ سے ملاقات کی اور وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھال لی۔ لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ دی کہ اسے ایک سال تک ڈکٹیٹر جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔ فاشسٹ پارٹی ایک پوری فوج کا روپ دھار چکی تھی اور بادشاہ بھی بے بس دکھائی دیتا تھا۔

سو اس نے تمام شرائط مان لیں۔ ڈکٹیٹر بننے کے بعد مسولینی نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دی اس میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو ان کی پارٹی کے پرانے کارکن نہیں تھے بلکہ بہت سے تو پارٹی کارکن تک نہیں تھے، یعنی نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے انیس سو چوبیس میں جب پارلیمنٹ کے الیکشن ہوئے تو مسولینی نے بزور طاقت کھلی دھاندلی کروائی اور اپنے زیادہ تر امیدوار جتوا لئے۔

اب پارلیمنٹ میں بھی مسولینی کے اراکین کی اکثریت تھی۔ اس کے لیے قانون بدلنا آسان ہو چکا تھا اور اب وہ ایک سال کیلئے نہیں بلکہ مستقل ڈکٹیٹر بن چکا تھا۔ اس موقعے پر مسولینی کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس کے سابقہ ولولہ انگیز خطابات بنے ہوئے تھے۔ کیونکہ اس نے خود کو عوام کے سامنے اس طرح پیش کیا تھا جیسے اٹلی کے تمام مسائل کا حل صرف اسی کے پاس ہے جس کے لیے اس کا حکمران بننا بہت ضروری ہے۔ لیکن اب وہ حکمران بن گیا تھا اور اسے معلوم تھا کہ اگر عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کئے تو کچھ ہی عرصے میں اٹلی اس سے بیزار ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے اپنی ساری توجہ امن وامان کے قیام اور ترقیاتی کاموں پر لگا دی۔ عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے اس نے یہ بھی مشہور کیا کہ وہ ایک مذہب پسند انسان ہے۔ اپنی مذہبی عقیدت ثابت کرنے کیلئے اس نے بہت سے جتن کیے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اس نے روم کے قریب عیسائیت کے مرکز ویٹی کن سٹی کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا۔

وہ دن اور آج کا دن، ویٹی کن سٹی دنیا کے انتہائی چھوٹے ملک کے طور پر قائم ہے۔ اپنی مذہبی عقیدت کی دکھاوے کے ساتھ ساتھ وہ مخالفین کو سزائیں بھی دے رہا تھا۔ میڈیا کو پابند کر رہا تھا، ٹریڈ یونینز پر پابندیاں اور سوشلسٹ کارکنوں کی گرفتاریاں بھی جاری تھیں۔ جس وقت مسولینی اٹلی کا حکمران بنا تو یہ دنیا میں بہت نازک وقت تھا۔ سوویت روس میں کمیونسٹ انقلاب آ چکا تھا جو کہ سوشلزم ہی کی ایک شدت پسند شکل ہے۔

اس لئے یورپی طاقتیں اور امریکہ ہر اس شخص کو اپنا اتحادی سمجھ رہے تھے جو سوشلزم کو کچلنے میں ان کا ساتھ دے سکے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مسولینی کے حکومت میں آنے کا مغربی طاقتوں نے کھل کر خیرمقدم کیا۔ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ الیون نے مسولینی کو سینٹ بائی دا پرویڈینس قرار دیا۔ برطانوی سیاستدان ونسٹن چرچل جو بعد میں وزیراعظم بنے انہوں نے مسولینی کو سب سے بڑا زندہ قانون دان کہا۔ یہی نہیں جب روزویلٹ امریکی صدر بنے تو انہوں نے کہا تھا مسولینی دنیا میں امن کا نمائندہ اور امریکہ کا سب سے بڑا ممکنہ اتحادی ہے۔ مسولینی کی شخصیت اور انقلاب اتنا متاثر کن تھا کہ علامہ اقبال جب انیس سو اکتیس میں گول میز کانفرنس کیلئے لندن آئے تو وہ مسولینی سے ملاقات کرنے اٹلی بھی گئے۔ ملاقات کے بعد علامہ اقبال مسولینی کی شخصیت سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے مسولینی کے نام پر ایک نظم لکھ ڈالی۔ مسولینی کے مداحوں میں صرف علامہ اقبال، چرچل اور روزویلٹ ہی شامل نہیں تھے بلکہ جرمنی کا ایک نوجوان سابق فوجی بھی اس میں شامل تھا جو مسولینی کے نقش قدم پر چلنا چاہتا تھا اور اس کا نام تھا ایڈولف ہٹلر۔ ہٹلر نے مسولینی کے فاشزم سے ہی فائدہ اٹھا کر اس کی زیادہ خطرناک شکل نازی ازم بنائی۔ جس کے مطابق جرمن قوم کو دنیا کی بہترین اور بالاتر قوم قرار دے دیا گیا۔ ہٹلرمسولینی کی بہت عزت کرتا تھا۔

انیس سو تینتیس میں اس نے جرمنی کی حکومت سنبھالی تو مسولینی کی ڈکٹیٹرشپ سے قریبی تعلقات رکھے۔ مسولینی نے اس دوستی کے عوض ہٹلر کا یہاں تک ساتھ دیا کہ بہت سے یہودیوں کو ملازمتوں سے محروم کر دیا یا گرفتار کر کے ہٹلر کے پاس بھجوا دیا۔ مسولینی، ہٹلر کو اپنا اتحادی تو سمجھ رہا تھا لیکن ذاتی سطح پر وہ ہٹلر کوزیادہ پسند نہیں کرتا تھا۔ جب ہٹلر انیس سو چونتیس میں اٹلی کے دورے پر آیا تو دونوں کار میں سیر کیلئے نکلے۔ ہٹلر نے مسولینی سے کہا کہ وہ آسٹریا کا علاقہ جرمنی کے حوالے کردے۔ مسولینی نے انکار کیا تو ہٹلر کو غصہ آ گیا۔ دونوں بگڑے منہ گاڑی سے اترے۔ بعد میں جب مسولینی سے پوچھا گیا کہ معاملہ کیا تھا تو اس کا جواب تھا ’’ہٹلر ایک معمولی پاگل مسخرے کے سوا کچھ نہیں‘‘۔ البتہ کچھ عرصے بعد مسولینی نے آسٹریا کو جرمنی کے حوالے کردیا جس سے دونوں کے تعلقات پھر سے بہتر ہو گئے۔ مسولینی نے اب اٹلی کی سرحدوں سے باہر سوچنا شروع کر دیا تھا۔ انیس سو پینتیس میں اس نے ہٹلر کی مدد سے افریقی ملک ایتھوپیا پر قبضہ کرلیا۔ اس کے چند برس بعد وہ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک البانیہ پر بھی قابض ہو گیا۔

ادھر مسولینی کا دوست ہٹلر اپنے شدت پسند نظریات کے باعث دوسری جنگ عظیم چھیڑ بیٹھا تھا اور جیت بھی رہا تھا۔ پولینڈ اور فرانس میں اس کی کامیابیوں نے مسولینی کو حسد میں مبتلا کر دیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ہٹلر سارے یورپ کو اکیلا ہضم کر جائے، چنانچہ وہ بھی دوسری جنگ عظیم میں کود پڑا۔ پہلے اسں نے یونان پر چڑھائی کردی۔ یونان اور اٹلی کی جنگ دوسری جنگ عظیم کی دلچسپ ترین لڑائیوں میں سے ایک ہے۔ ایک طرف اٹلی جیسی طاقت اور دوسری طرف یونان جیسا کمزور ملک۔ مسولینی نے یونانی سیاستدانوں اورجرنیلوں کو یہ فراخ دلانہ پیشکش کی کہ اگر وہ یونان کو اس کے حوالے کر دیں تو انہیں مالا مال کر دیا جائے گا۔ یونان اٹلی کی نسبت ایک کمزور ملک تھا لیکن پھر بھی اسے لالچ زیر نہ کر سکا۔

غصے سے بھر اور فتح کے جنون میں جب مسولینی نے یونان پر چڑھائی کی تو یونانی فوج نے چھکے چھڑا دئیے۔ اطالوی فوج الٹے پاؤں بھاگنے پر مبجور ہو گئی۔ اسی پر بس نہیں بلکہ یونانی فوج اطالویوں کا پیچھا کرتے ہوئے البانیہ میں بھی گھس گئی۔ برطانیہ جو یونان کا ساتھی تھا اس نے بھی اٹلی کے جہازوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اب مسولینی کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہوئے تو اس نے اپنے اسی دوست کو مدد کیلئے پکارا، جسے کبھی پاگل چھوٹا مسخرہ کہا تھا۔ مدد مانگنے پر ہٹلر نے پہلے تو مسولینی کی خوب کلاس لی کہ اس سے مشورہ کیے بغیر یونان پر چڑھائی آخر کی کیوں تھی۔ مسولینی نے کسی نہ کسی طرح ہٹلر کو ٹھنڈا کر کے مدد کیلئے منا ہی لیا۔

انیس سو اکتالیس میں جرمن فوج مسولینی کی مدد کو آئی، یونان پر حملہ کیا اور صرف تین ہفتوں میں یونان فتح کر کے اپنا پرچم لہرا دیا۔ لیکن یونان کی شکست، مسولینی کی کرشماتی شخصیت میں پہلی دراڈ ڈال گئی۔ اب عوام کا اعتبار اس سے اٹھنے لگا تھا۔ مسولینی کا سحر جب اپنے ملک میں ٹوٹنے لگا تو مدمقابل قوتیں زیادہ طاقتور ہو گئیں۔ تین برس کے اندر اندر مسولینی کی فوجوں کو صومالیہ، ایتھوپیا، شمالی افریقہ اور روس میں عبرتناک شکست ہوئی۔ لیکن اونٹ کی کمر پر آخری تنکا، انیس سو تینتالیس میں گرا جب امریکی اور برطانوی افواج نے اٹلی کے جزیرے سسلی پر حملہ کردیا۔ اور کرشماتی شخصیت والا مسولینی سوائے تماشائی کے کچھ نہ کر سکا۔

اس پر فاشسٹ گرینڈ کونسل کا ایک اجلاس ہوا۔ اجلاس میں طے پایا کہ اگر امریکہ اور برطانیہ کی دشمنی سے بچنا ہے تو مسولینی کو کرسی سے ہٹانا ہو گا۔ چنانچہ مسولینی کو برطرف کردیا گیا۔ مسولینی نے فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ اپنی ذات میں ڈکٹیٹر تھا۔ وہ اب بھی یہی سمجھتا تھا کہ حکومت اسی کی ہے۔ اس لئے وہ پارٹی اور کونسل کے فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے اگلے روز اپنے دفتر پہنچ گیا۔ لیکن اب اٹلی کا بادشاہ بھی اس کے خلاف ہو چکا تھا اور مسلسل شکستوں کے باعث بلیک شرٹس بھی کمزور ہو چکے تھے۔ بادشاہ کے حکم پر مسولینی کو گرفتار کرکے دارالحکومت سے دور ایک پہاڑی علاقے میں قید کر دیا گیا۔

مسولینی کی گرفتاری کی خبر عام ہوئی تو خوف کا بت دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔ عوام نے ملک بھر میں مسولینی کے مجسمے گرانا اور تصاویر مسخ کرنا شروع کر دیں۔ ایسے میں مسولینی کے کام اس کا وہی پاگل دوست آیا۔ ہٹلر نے کمانڈوز بھیجے جو اسے آزاد کروا کے جرمنی کے شہر میونخ لے آئے۔ پھر ہٹلر کی فوج نے شمالی اٹلی پر قبضہ کیا اور مسولینی کو اس کا حکمران بنا دیا۔ اب دیکھئے کہ وہی مسولینی جو کل تک رومن سلطنت قائم کرنے کے خواب دیکھا کرتا تھا اور خود کو جولیئس سیزز، آگسٹس اور کونسٹنٹائن جیسے فاتحین کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا اب ہٹلر کی کٹھ پتلی بن کر رہ گیا تھا۔ اس پر مسولینی کے سابق مداح چرچل نے پھبتی کسی مسولینی کی حیثیت اب ہٹلر کے طفیلی یا مزارعے جیسی ہے‘‘۔

وقت گزرتا رہا اور انیس سو پینتالیس کا سال آ گیا۔ جرمن جو شروع میں جنگ عظیم دوئم کا سب سے بڑا کھلاڑی ثابت ہوا تھا، اب میدان چھوڑ رہا تھا۔ ہٹلر کی فواج ہر جگہ سے پسپا ہو رہی تھیں اور مسولینی جو زندہ ہی ہٹلر کے کی مدد سے تھا، بے یارومددگار ہوتا جا رہا تھا۔ جب ہٹلر کی شکست یقینی نظر آنے لگی تو مسولینی نے اٹلی سے فرار ہونے کی ٹھانی۔ یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں، کہا جاتا ہے کہ زندہ مسولینی کی آخری تصویر تھی۔

چھبیس اپریل کو جرمن فوجیوں اور عام شہریوں کا ایک قافلہ سوئٹزر لینڈ میں پناہ کیلئے جا رہا تھا تو اس میں ایک عمر رسیدہ جوڑا بھی شامل تھا۔ ایک اکسٹھ سالہ بوڑھا فوجی جس کے سر پر جرمن ائرفورس کا ہیلمٹ اور جسم پر اوورکوٹ تھا۔ اس فوجی کے ساتھ ایک تینتیس سالہ عورت تھی جو بظاہر اس کی بیٹی لگتی تھی لیکن دراصل محبوبہ تھی۔ اگلے روز یعنی ستائیس اپریل کو یہ قافلہ جب سوئٹزلینڈ سے صرف پچیس کلومیٹر دور جھیل کنارے واقعے قصبے ڈونگو پہنچا، تو اسے سوشلسٹوں کے مسلح گروہ نے روک لیا۔ جرمنوں کی شکست کے بعد اب سوشلسٹ طاقتور ہو چکے تھے اور مسولینی کے حامیوں کو چن چن کر قتل کررہے تھے۔ انھیں شدت سے مسولینی کی بھی تلاش تھی کیونکہ انھیں اس سے بہت سے حساب چکتا کرنا تھے۔ قافلے کی تلاشی ہوئی تو کسی نے اس بوڑھے جرمن فوجی کو پہچان لیا۔ یہ بوڑھا، دراصل بینیٹو مسولینی تھا اور اس کے ساتھ اس کی محبوبہ کلاریٹا پٹاشی تھی۔ جس نے مرتے دم تک اس کے ساتھ رہنے کی قسم کھائی تھی۔ سوشلسٹ مسولینی کو گرفتار کر کے خوشی سے دیوانے ہو رہے تھے۔ انھوں نے دونوں کو ایک فارم ہاؤس میں قید کر دیا۔ اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو مسلح افراد نے انہیں فارم ہاؤس سے نکالا اور قریبی گاؤں کی طرف لے چلے۔

وہاں اس جوڑے کو پتھر کی ایک دیوار کے ساتھ کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا۔ مسولینی کو یقین ہو گیا کہ اب اسے زندہ نہیں چھوڑا جائے گا تو اس نے بندوق تانے سوشلسٹ سے کہا دیکھنا نشانہ چوک نہ جائے، سیدھا دل میں لگنا چاہیے’’۔‘‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسولینی آخری وقت میں خاموش رہا کوئی بات اس کے منہ سے نہیں نکلی۔ یہی وہ شخص تھا جس نے گن سیدھی کی اور مسولینی کو موت کی نیند سلا دیا۔ مسولینی، اس کی محبوبہ اور دیگر فاشسٹوں کی لاشیں ٹرک میں لاد کر واپس اسی شہر میلان میں لائی گئیں جہاں ابھی کچھ دن پہلے ہی وہ حکمران تھا۔ یہ لاشیں شہر کے چوک میں یوں پھینک دی گئیں جیسے کوڑے کا ڈھیر پھینکا جاتا ہے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں مسولینی نے فاشسٹ پارٹی بنائی تھی۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ہٹلر کی مدد سے مسولینی نے آخری حکومت بنائی تھی۔ یہ وہی شہر تھا

اور یہ وہی چوک تھا جہاں صرف 8 ماہ پہلے مسولینی نے 13 سوشلسٹ کارکنوں کی لاشیں پھینکی تھیں۔ اب اسی شہر کے اسی چوک میں مسولینی اور اس کے ساتھیوں کی لاشیں پڑیں تھیں جنھیں لاکھوں لوگ دیکھ رہے تھے اور بے حرمتی بھی کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ لاشوں کو الٹا لٹکا کر پتھر بھی مارے گئے۔ یہیں پر بس نہیں ہوا، بلکہ مسولینی کے کچھ اور حامیوں کو بھی وہاں لایا گیا اور انہیں مار کے مسولینی کے ساتھ ہی لٹکا دیا گیا۔ ان میں ایک شخص ایشلز سٹاریس بھی تھا۔ اس نے ایک بار مسولینی کو دیوتا قرار دیا تھا۔ اسے خاص طور پر مسولینی کی لاش کے سامنے لایا گیا اور کہا گیا دیکھو اپنے دیوتا کا انجام۔ لیکن ایشلز اپنے نظریات کا اتنا پکا تھا کہ موت سامنے دیکھ کر بھی نہیں گھبرایا، اس نے اپنے مردہ لیڈر کو آخری سلیوٹ کیا۔ پھر اسے بھی گولی مار کرمسولینی کے ساتھ ہی اسے لٹکا دیا گیا۔ مسولینی کی لاش کومیلان شہر کے باہر ایک قبرستان میں دفن کیا گیا لیکن یہ لاش بھی اٹلی کیلئے ایک مسئلہ بن گئی۔ ہوا یوں کہ مسولینی کے مخالفین ان کی قبر پر جا کر اسے ٹھوکریں مارتے اور بے حرمتی کرتے تھے۔

اپریل انیس سوچھیالیس میں مسولینی کے کچھ حامیوں نے ان کی قبر کھود کر لاش نکال لی۔ انہوں نے لاش کو غسل دیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ اور قبر پر ایک نوٹ لکھ کر چھوڑ گئے کہ وہ کمیونسٹوں کے ہاتھوں اپنے لیڈر کی بے حرمتی برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمارے لیڈر تم اب ہمارے ساتھ ہو ہم تمہیں پھولوں سے ڈھک دیں گے۔ لیکن تمہاری خوبیوں کی خوشبو ان پھولوں پر بھی غالب آ جائے گی۔ حکومت کو پتا چلا تو لاش کی تلاش شروع ہو گئی۔ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد اگست میں حکومت نے میلان شہر کے جنوب میں ایک عبادت گاہ سے مسولینی کی باقیات برآمد کر کے تحویل میں لے لیں۔ برسوں بعد اٹلی میں ایڈون زولی وزیراعظم بنے۔

انہوں نے دائیں بازو کے سیاستدانوں کا تعاون حاصل کرنے کیلئے لاش کی باقیات مسولینی کی بیوہ ڈونا ریچل کے حوالے کردیں۔ انیس سو ستاون میں ان باقیات کو روماگنا میں مسولینی کے خاندانی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ قبر پر مسولینی کا مجسمہ اور پارٹی نشانات بھی نصب کردیئے گئے۔ وہ جگہ جہاں مسولینی کو گولیوں کا نشانا بنایا گیا تھا وہاں اب ایک سیاہ سلیب نصب ہے۔ مسولینی کا ایک بیٹا رومانو مسولینی اٹلی کا مشہور پیانسٹ اور فلم پروڈیوسر بنا۔ مسولینی کی پوتی ایلازانڈرا مسولینی اٹلی کی طرف سے یورپی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہو چکی ہیں۔ میلان شہرکے ریلوے اسٹیشن میں آج بھی مسولینی کی تصویر آویزاں ہے اگرچہ کسی نے اس تصویر کی آنکھیں نکال لی ہیں۔ آج دنیا میں فاشسٹ نظریہ ایک ناقابل قبول رویہ مانا جاتا ہے۔

جبکہ اٹلی میں ایک طبقہ آج بھی فاشسٹ پارٹی کے بانی مسولینی کو درست مانتا ہے ان کی قبر پر تقریبات منعقد کرتا ہے اور سمجھتا ہےکہ مسولینی کے نظریات کا دور واپس آئے گا تو اٹلی اپنی عظمت رفتہ کی طرف پلٹے گا۔ آپ کے خیال میں مسولینی،

ایک ظالم تھا یا ایک ایسا انقلابی جس کا انقلاب ناکام ہو گیا؟ کمنٹس میں ضرور لکھیں۔

Who was Bruce Lee _ بروسلی

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *