یہاں تک کہ ایک جگہ کرد ڈاکوؤں نے اس کے کیمپ پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ چنگیز خان کا ایک بہت بڑا دشمن ختم ہو چکا تھا۔ چنگیز خان نے اس سے بہت پہلے ہندوستان سے تو اپنی فوج ہٹا لی تھی۔ مگر اس نے خوارزمی سلطنت کے باغی شہروں کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ ان شہروں میں افغانستان کے مشہور شہر غزنی، بلخ، غور اور ہرات بھی شامل تھے۔ چنگیز خان کی عمر اب ساٹھ برس سے زیادہ ہو چکی تھی۔ وہ طویل عرصے تک اور جینا چاہتا تھا۔ اس کوشش میں اس نے چین سے تاؤ ازم کے ایک پیشوا چین چُنگ کو بلا کر اس سے ہمیشہ کی زندگی کا راز پوچھا۔ چین چُنگ نے کہا ’’اگر تم اپنے ازدواجی معاملات میں احتیاط کرو، شکار اور شراب سے دور رہو تو تم لمبے عرصے تک زندہ رہ سکتے ہو۔‘‘

Who was Genghis Khan چنگیز خان کون تھا؟ Part-18

چنگیز خان کو اس جواب سے مایوسی ہوئی کیونکہ وہ لمبی زندگی نہیں ہمیشہ کی زندگی، ایمورٹیلٹی چاہتا تھا۔ اس نے واپس منگولیا جانے کا فیصلہ کیا اور بارہ سو پچیس میں، یعنی چھے برس بعد اپنے وطن چلا گیا۔ اس وقت تک وہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا حکمران بن چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ عام منگولوں کی طرح خیموں میں رہتا اور سادہ زندگی گزارتا رہا۔ اس نے زندگی کا کوئی حصہ عیش و عشرت میں نہیں گزارا۔ یہی نصیحت وہ اپنے بعد آنے والوں کو کیا کرتا تھا۔ ایک بار اس نے کہا تھا ’’ہمارے بعد ہماری نسل کے لوگ سونے کے لباس پہنیں گے، مزیدار کھانے کھائیں گے سجے ہوئے گھوڑوں پر سفر کریں گے، ان کی بیویاں خوبصورت ہوں گی اور وہ بھول جائیں گے کہ ہمارا ان پر کیا حق ہے۔‘‘

چنگیز خان کو اپنے سب بیٹوں میں جوچی خان سب سے زیادہ پسند تھا حالانکہ وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں تھا بلکہ مرکد قبیلے کی اولاد تھا۔ چنگیز خان، جوچی کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا تھا۔ مگر اس کے دوسرے بیٹے چغتائی خان نے اعتراض کیا اور کہا کہ ’’ہم مرکد قبیلے کی اولاد کو آپ کا جانشین نہیں مان سکتے۔‘‘ اس بات پر جوچی اور چغتائی میں مار پیٹ تک ہو گئی۔ مجبور ہو کر چنگیز خان نے اپنے تیسرے بیٹے اوغدائی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ لیکن بعد میں آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟ جانشینی والے واقعے کو گزرے زیادہ برس ہی ہوئے تھے کہ جوچی خان اور چنگیز خان میں شدید اختلافات ہو گئے۔ یہ اختلافات اتنے بڑھےکہ چنگیز خان نے مبینہ طور پر، الیجیڈلی، جوچی خان کو زہر دے کر ہلاک کروا دیا۔ اپنے وطن واپسی کے ایک سال کے اندر، بارہ سو چھبیس میں چنگیز خان بوڑھا بھی ہو گیا تھا اور صحت بھی بہت خراب ہو چکی تھی۔ پھر بھی وہ چین کے اندر ایک بغاوت کچلنے کیلئے نکل کھڑا ہوا۔

اس نے ایک برس کے درمیان یہ بغاوت تو کچل دی لیکن کہتے ہیں کہ جنگ کے دوران ایک تیر اس کی ٹانگ میں پیوست ہو گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک شکار کے دوران وہ گھوڑے سے گر کر زخمی ہوا تھا۔ اسے گہری اندورنی چوٹیں لگی تھی۔ وہ ابھی ہرگز مرنا نہیں چاہتا تھا، لیکن زخم میں انفیکشن پھیل گئی۔ اور یہ زہر پھیلتے پھیلتے اس کے رگ وپے میں سرائیت کر گیا۔ اگست بارہ سو ستائیس کے آخری دن تھے کہ چنگیز خان نے آخری سانس لی۔ پینسٹھ سالہ بوڑھا چنگیز خان اپنے آبائی علاقوں سے بہت دور ایک بغاوت کچل چکا تھا۔ لیکن زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ اس کے بیٹے اوغدائی خان نے اپنے باپ کی روح کو خوش کرنے کیلئے چالیس کنواری لڑکیوں کی قربانی بھی دی۔ اس کی لاش کو منگولیا میں اسی دریا اونان کے کنارے پر واپس لایا گیا جہاں کبھی اس نے یسوگئی کے خیمے میں آنکھ کھولی تھی۔ اور یہیں اسے دفن کر دیا گیا۔ منگولوں میں قبروں کو خفیہ رکھنے کا رواج تھا۔

لیکن چنگیز خان کی قبر کو چھپانے کے لیے تو حد ہی کر دی گئی۔ لیجنڈ ہے چنگیز خان کی آخری رسومات دیکھنے والے ہر شخص کو قتل کروا دیا گیا تھا۔ پھر اس زمین کو جہاں وہ دفن تھا، 800 گھڑسواروں نے گھوڑے دوڑا دوڑا کر روند ڈالا تا کہ قبر کا نشان تک مٹ جائے۔ جب یہ ہو چکا تو ان آٹھ سو گھڑسواروں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں قتل کرنے والوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ قبر کے اردگرد جانوروں تک کو مار ڈالا گیا۔ ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دریا کا رخ موڑ کر اسے قبر پر سے گزار دیا گیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ماہرین کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود چنگیز خان کی قبر کا سُراغ آج تک نہیں مل سکا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چنگیز خان کو شاید منگولیا میں ہی مقدس پہاڑی برقان خالدون پر ہی کہیں دفن کیا گیا تھا۔ کچھ مورخین کے نزدیک شاید وہ منگولیا کے اس حصے میں جو اب چین میں شامل ہے وہاں کہیں دفن کیا گیا تھا۔ کیونکہ چنگیز خان کی موت گرمی کے موسم میں ہوئی تھی۔

منگول لاش کو اتنی دور دریائے اونان کے پاس نہیں لے جا سکتے تھے۔ انہیں لاشوں کو محفوظ کرنے کا طریقہ بھی نہیں آتا تھا۔ اس لئے ممکنہ طور پر چنگیز خان کی لاش چین میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن ہے۔ لیکن صرف چنگیز خان ہی کیوں، اس کے بیٹے، پوتے ’مونگ کے‘ خان اور قبلائی خان سمیت اہم ترین منگول سرداروں کی قبروں کے بارے میں بھی کسی کو معلوم نہیں۔ حالانکہ بلاشبہ وہ تاریخ کے ناقابل فراموش کرداروں میں سے تھے۔ آج چنگیز خان کو جدید منگولیا کا بانی اور قومی ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ منگولیا کی کرنسی پر بھی چنگیز خان کا سکیچ پرنٹ کیا جاتا ہے۔ چنگیز خان تو مر گیا لیکن اس کی اولاد تیزی سے پھیلتی رہی۔ یہاں تک کہ دوہزار تین میں کی گئی

ایک میل جینز پر تحقیق سے یہ حیرت انگیز بات سامنے آئے کہ دنیا کے پوائنٹ فائیو پرسنٹ مرد چنگیز خان کی اولاد ہیں۔ یہ تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی تعداد بنتی ہے۔ جب چنگیز خان مرا تو منگولیا سے روس تک 1 کروڑ 20 لاکھ مربع کلومیٹر زمین پر اس کی سلطنت پھیلی ہوئی تھی۔ یہ سلطنت آج کے امریکہ سے بھی بڑی تھی۔ اس سلطنت کے قیام کیلئے چار کروڑ انسان جو اُس دور کی کل آبادی کا گیارہ فیصد تھے، قتل کر دیئے گئے۔ دوستو چنگیز خان کون تھا کی منی سیریز یہاں مکمل ہوتی ہے۔ لیکن منگول سلطنت چونکہ چنگیز خان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ اور بھی پھیلی تھی۔ اس لیے ہم چنگیز خان کون تھا سیریز تو یہاں مکمل کر رہے ہیں لیکن آپ کی دلچسپی کے لیے منگول سلطنت کے دو بڑے حکمرانوں کی کہانی آپ کے سامنے لا رہے ہیں۔

یہ کہانیاں بروقت دیکھنے کے لیے دیکھو سنو جانو کو سبسکرائیب کیجئے اور بیل آئیکن پر بھی ٹچ کر لیجئے تا کہ ہر اپ ڈیٹ آپ کو بروقت مل سکے۔ لیکن ہاں ہمیں کامینٹس میں یہ ضرور بتائیں کہ آپ کے خیال میں چنگیز خان ایک کامیاب انسان تھا یا ناکام؟ جو باتیں اس کے بارے میں مشہور ہیں یہ کتنی سچ ہیں آپ کے خیال میں۔ اور آپ جیسا بھی سمجھتے ہیں ویسا کیوں سمجھتے ہیں کمنٹس میں ضرور لکھیں؟ چنگیز خان منی سیریز کی آخری قسط آپ نے دیکھی۔ یہ مکمل سیریز دیکھنے کیلئے یہاں ٹچ یا کلک کیجئے یہ رہی پاکستان کی کہانی اور یہاں جانئے ہماری کائنات کی ایسی کہانی جو آپ کسی بھی الف لیلوی داستان سے حسین پائیں گے۔

Read More How was a mentally distorted nation restored? ذہنی طور پر مسخ شدہ قوم کیسے بحال ہوئی؟

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *